ہمیں کوئی بھی دوا کارگر نہیں ہوگی
جہاں نہ آہٹ کوئی خوشی کی
رمق نہیں کوئی زندگی کی
نہیں ہے چڑیوں کی چہچہاہٹ
نہ آبشاروں سی گنگناہٹ
نہ کان پڑتی صدا ہے کوئی
نہ درد دل کی دوا ہے کوئی
فصیل جاں میں تو چاروں جانب
کوئی بھی در ہے نہ ہے دریچہ
جہاں سے تازہ ہوا گزر کر
ہمارے دل کو سکوں بخشے
نہ طاقچہ اور چراغ کوئی
کہ جس سے اندر کے گھپ اندھیرے
میں روشنی ہو
کوئی بھی ایسا خلا نہیں ہے
جہاں سے دل کی صدا
کسی کی سماعتوں تک رسائی پائے
نہ در ہے کوئی کہ جو کھلے تو
اسیر جاں یہ رہائی پائے
فصیل جاں ہے کہ مقبرہ ہے
10
ہے میری زندگی استاد میری
تھی حائل درمیان لمبی مسافت
نہ پہنچی اس تلک فریاد میری
نہ ہو محسوس اس کو درد میرا
کبھی آئے نہ اس کو یاد میری
نہ کر مائل مجھے تو اپنی جانب
نہ کر تو عاقبت برباد میری
تو میری مان خود پہ جبر مت کر
نہ لے سر اپنے تو افتاد میری
میں رو دوں اسقدر اصرار مت کر
نہ سن پائے گا تو روداد میری
گرا پائے گا کیا طوفان مجھ کو
نہیں ہے کھوکھلی بنیاد میری
جہاں نہ آہٹ کوئی خوشی کی
رمق نہیں کوئی زندگی کی
نہیں ہے چڑیوں کی چہچہاہٹ
نہ آبشاروں سی گنگناہٹ
نہ کان پڑتی صدا ہے کوئی
نہ درد دل کی دوا ہے کوئی
فصیل جاں میں تو چاروں جانب
کوئی بھی در ہے نہ ہے دریچہ
جہاں سے تازہ ہوا گزر کر
ہمارے دل کو سکوں بخشے
نہ طاقچہ اور چراغ کوئی
کہ جس سے اندر کے گھپ اندھیرے
میں روشنی ہو
کوئی بھی ایسا خلا نہیں ہے
جہاں سے دل کی صدا
کسی کی سماعتوں تک رسائی پائے
نہ در ہے کوئی کہ جو کھلے تو
اسیر جاں یہ رہائی پائے
فصیل جاں ہے کہ مقبرہ ہے
شعور و فکر کی بالیدگی پہ ہنستے ہیں
جو اوڑھے رکھتے ہیں ہر دم نقاب چہرے پر
وہ سارے لوگ مری سادگی پہ ہنستے ہیں
انہیں یہ زندگی اک دن بہت رلائے گی
جو زندگی میں بہت زندگی پہ ہنستے ہیں
نہ ہے آرزو کوئی دوستا نہ مجھے سکوں کی تلاش ہے
جسے تھام کر کھڑی رہ سکوں مجھے اس ستوں کی تلاش ہے
مرے چارہ گر تو نہ اب مجھے کوئی مصلحت کا سبق پڑھا
کہ مجھے خرد سے غرض نہیں مجھے اب جنوں کی تلاش ہے
مجھے ہے خبر نہ ٹلے گی اب مری جان لے کے ہی جائے گی
کہ یہ عشق ہے وہ بلائے جاں جسے میرے خوں کی تلاش ہے
بڑی مدتوں سے میں سہہ رہی ہوں شکستگی مرے ناصحا
جو سمیٹ لے مری ذات کو مجھے اس فسوں کی تلاش ہے
مرے حال زار کا پوچھنے مرے پاس آئے وہ دو گھڑی
مجھے اس کی دید کے واسطے طبع زبوں کی تلاش ہے